ترواننتھاپورم19؍اگست(ایس او نیوز؍ایجنسیز)کیرلا میں سیلاب کی بدترین صورتحال اس وقت نظرآئی جب پریشانی میں مبتلا لوگوں نے اپنوں کی نعشوں کو پانی پرتیرتے ہوئے دیکھا۔ ایک دو بہنیں بلکہ ایک ساتھ15؍نعشیں پانی پربہہ رہی تھیں۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے اور اضلاع میں زبردست بارش کا ریڈ الرٹ جاری کردیاہے جس سے متاثرین کے حوصلے پست ہورہے ہیں۔ مئی سے اب تک347سے زائد لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ہفتہ کی صبح ریاست میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد میٹنگ کے دوران ناگہانی اموات اور املاک کے نقصان پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے قدرتی آفات کا سامنا کرنے والے کیرلا کو وزیراعظم نریندر مودی نے500کروڑ کی عبوری امداد کا اعلان کیا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ریاست کی درخواست پر غذائی اجناس اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان بھی فراہم کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے مہلوکین کے ورثاء کو2-2لاکھ روپئے اور شدید زخمیوں کو50ہزار دینے کی عبوری امداد وزیراعظم قومی ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ سے دےئے جانے کا بھی اعلان کیا۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کیرالا میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے ریاست کے سیلاب کوقومی آفت قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کرکے کہا کہ ’’محترم وزیر اعظم، براہ مہربانی بلا تاخیر کیرالا کے سیلاب کو قومی آفت قرار دیں۔ ہمارے کروڑوں لوگوں کی زندگی، روزی روٹی اور مستقبل داؤ پر ہے ‘‘۔ اس سے پہلے راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ کر کے مودی سے سیلاب سے متاثرہ کیرالا کو خصوصی مدد دینے کی درخواست کی تھی۔ کانگریس صدر نے کہا کہ کیرلا بہت بڑی مصیبت میں ہے ۔ میں نے وزیر اعظم سے بات کی ہے اور ان سے فوج اور بحریہ کے جوانوں کی تعیناتی میں اضافہ کرنے کی درخواست کی ہے ۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ یہ بحران کی صورت حال ہے ۔ ریاست کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ خوفناک سیلاب ہے ، اس لئے ریاست کو خصوصی مدد ملنی چاہئے ‘‘۔ سیلاب کی سنگین صورتحال کے درمیان علاقوں میں پینے کے پانی کی کمی ہوتی جارہی ہے اوراسپتالوں میں آکیجن ختم ہورہی ہے۔ ٹریفک متاثر ہونے سے زیادہ تر پٹرول پمپ سوکھے پڑے۔
دوسری جانب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگ سوشیل میڈیا کے ذریعہ مدد کی اپیل کررہے ہیں۔ کیرلا کے 3.3کروڑ باشندگان خوفناک صورتحال پر لوگوں کی امداد کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچاؤ کارکنوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن بجلی نہ ہونے سے مواصلاتی نظام ٹھپ ہے۔ ہمہ منزلہ عمارتوں میں پھنسے لوگ اسکول،کالج اور دیگر مقامات پر پھنسے طلبہ وطالبات، چرچ اور مساجد میں پھنسے دیگر لوگ بھی سوشیل میڈیا کے ذریعہ مدد مانگ رہے ہیں۔ وہ گوگل میپ کے ذریعہ اپنے لوکیشن کی جانکاری دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ہاتھ جوڑ کر مدد کی اپیل کرتے ہوئے لوگوں کی ویڈیو کو واٹس ایپ گروپ میں ہزاروں لوگ پوسٹ اور شیٹر کررہے ہیں۔ ایک فیس بک پوسٹ جووائرل ہواہے، اس میں الپوزہ کا باشندہ یہ کہتاہوا نظر آرہاہے کہ میر خاندان اور پڑوسی بہت زیادہ مصیبت میں ہے۔ یہاں نہ کھانا اور نہ پانی بھوک اور پیاس کی شدت سے اب منہ سے آواز بھی نکل نہیں پارہی ہے۔ کسی سے رابطہ بھی نہیں ہوپارہا ہے۔ موبائل فون کے نیٹ ورک بھی نہیں ہیں۔ ہاتھ جوڑ کر وہ یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ’’ ہم بھوکے ہیں کھانا کھلادو‘‘ ہم پیاسے ہیں پانی پلادو‘‘ ایسی بہت ساری ویڈیوز سوشیل میڈیا پر گردش میں ہیں ،جہاں لوگ کی بے بسی ،بیچارگی اور مفلوک الحالی نظرآرہی ہے۔ تاہم اب کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی جانب سے بھی مدد کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی سیلاب کی مار جھیل رہے کیرلا کی مدد کا اعلان کیا ہے۔
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے وزیر اعلیٰ راحت فنڈ سے سیلاب سے تباہ کیرلا کے لئے 10 کروڑ روپے کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ وہیں اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے سیلاب سے متاثرہ کیرلاکے لئے وزیر اعلیٰ راحت فنڈ سے پانچ کروڑ روپے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ 245 فائر بریگیڈ اہلکار کشتی کے ساتھ راحت رسانی کے لئے بھیجے جائیں گے۔اس کے علاوہ، ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے بھی سیلاب سے تباہ کیرلا کے لئے 10 کروڑ روپے کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم کے دفتر سے ایک بیان میں بتایاگیا کہ مودی نے تمام مہلوکین کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے کی امدادی رقم اور شدید زخمی افراد کو 50۔50 ہزار روپے وزیراعظم قومی امدادی فنڈسے بھی دینے کا اعلان کیا ہے۔اس کے علاوہ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے کیرلا کو 6 کروڑ روپے کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم 12 اگست کو وزارت داخلہ کی طرف سے 100 کروڑ روپے کی مدد دینے کے اعلان سے الگ ہے۔ کوچی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا جائزہ لینے کے بعد وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثر ’کچھ‘ علاقوں کا ہوائی سروے کیا۔ سیلاب کی تباہی سے دو چارالوواتری شور علاقے کے ہوائی سروے کے دوران وزیر اعظم کے ساتھ گورنر پی سداشوم، کیرلا وزیر اعلیٰ، مرکزی وزیر کے جے الفونس اور دیگر افسران موجود تھے۔وہیں محکمہ موسمیات نے آج بھی بارش کی قیاس آرائی کی ہے جس سے حالات مزید بگڑ جانے کا خدشہ ہے ۔